اتوار 6 ستمبر 2026 - 04:36
برکس اجلاس سے ایرانی عدلیہ کے سربراہ محسنی اژہ ای کا مطالبہ: جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکبین کے خلاف آواز بلند کی جائے

حوزه/ نئی دہلی میں برکس عدالتی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژہ ای نے منصفانہ عالمی نظام کے قیام، قانون کی حکمرانی اور تمام ممالک کے مساوی حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ ایسے انصاف کی ضرورت ہے جو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو اور اقوام کے حقوق کا تعین ان کی طاقت کی بنیاد پر نہ کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی اژہ ای نے ہفتہ 5 ستمبر کو نئی دہلی میں برکس کے رکن ممالک کے عدالتی سربراہان کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ انصاف کی ضرورت ہے؛ ایسا انصاف جو انتخابی نہ ہو، سیاسی مصلحتوں کے تابع نہ ہو اور اقوام کے حقوق کا تعین ان کی طاقت کی بنیاد پر نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور قانون کی پابندی ہر معاشرے میں نظم، انصاف اور ترقی کی بنیادی ستون ہیں۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اصول و ضوابط اور قوانین کی پابندی خودسری، طاقت کے زور اور تسلط پسندی کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

برکس اجلاس سے ایرانی عدلیہ کے سربراہ محسنی اژہ ای کا مطالبہ: جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکبین کے خلاف آواز بلند کی جائے

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے ایک منصفانہ عالمی نظام کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب طاقت، دولت اور اثر و رسوخ سے قطع نظر تمام ممالک کو مساوی حقوق حاصل ہوں، کسی ملک کے مفادات کو دوسروں کے مفادات پر ترجیح نہ دی جائے اور کوئی طاقت اپنے ارادے دوسروں پر مسلط نہ کرسکے۔

انہوں نے عالمی نظام کی تشکیل میں برکس کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ برکس کی دستاویزات میں باہمی احترام، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔ برکس ایک اہم اقتصادی و سیاسی اتحاد کے طور پر نئے عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل میں ثالثی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ باہم مربوط عالمی معیشت میں ثالثی محض تنازعات کے حل کا ایک قانونی طریقہ نہیں بلکہ اقتصادی تعلقات میں اعتماد، استحکام اور تعاون کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور سپلائی چینز کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات کے باعث ایک ملک یا کمپنی کا تنازع دوسرے ممالک کے اقتصادی تعلقات کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں ثالثی تنازعات کو طویل مدتی محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکنے اور تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے برکس کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی ثالثی کے لیے مشترکہ فریم ورک قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک معتبر تجارتی ثالثی مراکز کا نیٹ ورک قائم کریں، ثالثوں کی آزادی، غیر جانب داری اور پیشہ ورانہ اہلیت کے لیے مشترکہ اصول وضع کریں، ماہر ثالثوں کی تربیت کے لیے مشترکہ پروگرام تشکیل دیں اور ثالثی کے ذریعے طے پانے والے معاہدوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کریں۔

محسنی اژہ ای نے عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی اور قانونی اداروں کو عام شہریوں کے قتل، جبری نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بین الاقوامی جرائم کے مرتکبین کو سزا نہ ملنے کے معاملے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والے حملوں میں عام شہریوں، خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ شہید ہوئے اور اسپتالوں، تعلیمی و ثقافتی مراکز اور رہائشی علاقوں سمیت متعدد بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے برکس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کریں اور جارحیت کرنے والوں کے غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

برکس اجلاس سے ایرانی عدلیہ کے سربراہ محسنی اژہ ای کا مطالبہ: جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکبین کے خلاف آواز بلند کی جائے

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ عالمی دائرۂ اختیار کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف ہونے والی جنگوں کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکبین کو قانونی طور پر تحتِ تعاقب قرار دیا جانا چاہیے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ انصاف کی ضرورت ہے؛ ایسا انصاف جو انتخابی نہ ہو، سیاسی مصلحتوں کے لیے قانون کی حکمرانی کو قربان نہ کرے اور اقوام کے حقوق کو ان کی طاقت کے مطابق نہ پرکھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha